روزہ رکھنے کی دعا اور نیت: قرآن و سنت کی روشنی میں مکمل رہنمائی
تعارف
رمضان المبارک اسلام کے مقدس ترین مہینوں میں سے ایک ہے، جس میں مسلمان دنیا بھر میں روزے رکھتے ہیں۔ روزہ رکھنے کے لیے نیت کرنا اور افطار کے وقت دعا مانگنا انتہائی اہم عبادات میں شمار ہوتا ہے۔ اس مضمون میں ہم روزہ رکھنے کی دعا، نیت کے احکام، سحری و افطار کی مسنون دعائیں، اور ان سے متعلق فقہی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیں گر
روزہ رکھنےکی دعا نیت : بنیادی اصول
روزہ صحیح ہونے کے لیے نیت کرنا ضروری ہے۔ نیت در حقیقت دل کے ارادے کا نام ہے، اور اتنی نیت کرلینا کافی ہے کہ انسان کے دل میں یہ ارادہ ہو کہ ”آج میرا روزہ ہے“ یا رات کو یہ ارادہ کرلے کہ ”کل میرا روزہ ہے“ ۔ نیت کے الفاظ زبان سے ادا کرنا ضروری نہیں ہے، البتہ زبان سے نیت کا اظہار کرنا بہتر ہے ۔ سحری کے لیے اٹھنا اور سحری کھانا بذات خود نیت کے قائم مقام ہے، اگرچہ زبان سے کچھ نہ کہا جائے ۔
روزہ رکھنے کی مشہور دعا اور اس کی شرعی حیثیت
مسلمانوں میں روزہ رکھنے کے لیے جو دعا عام طور پر پڑھی جاتی ہے، وہ یہ ہے:
”وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ“
ترجمہ: ”اور میں نے رمضان کے مہینے میں کل کے روزے کی نیت کی“ ۔
تاہم، فقہی حوالوں سے یہ بات واضح ہے کہ نیت کے یہ مخصوص الفاظ احادیث میں منقول نہیں ہیں ۔ علامہ ملا علی قاری حنفی نے ”المرقاۃ“ میں تصریح کی ہے کہ شرع میں ان دعاؤں کا کوئی اصل ثابت نہیں، اگرچہ معنی کے اعتبار سے یہ درست ہیں ۔
صاحب ”المرعاۃ“ لکھتے ہیں: ”نماز روزہ کے لیے زبانی نیت کرنے کا کتاب و سنت اور کسی صحابی سے کوئی ثبوت نہیں۔ یہ محض رائے اور بدعتِ سَیّئہ ہے جس کا ترک ضروری ہے“ ۔
نیت کا صحیح طریقہ
رمضان کا روزہ صحیح ہونے کے لیے نیت کرنا ضروری ہے، اور نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔ اتنی نیت کرلینا کافی ہے کہ ”آج میرا روزہ ہے“ یا رات کو یہ ارادہ کرلے کہ ”کل میرا روزہ ہے“ ۔ رات میں یا صبح صادق سے پہلے زبان سے نیت کی ادائیگی کے لیے معروف الفاظ ”نویت أن أصوم غداً لله تعالی من صوم رمضان“ یا ”نویت أن أصوم غداً لله تعالی من فرض رمضان“ کہنا درست ہے ۔
نیت کے لیے کوئی مخصوص الفاظ ضروری نہیں ہیں۔ انسان اپنی زبان میں بھی نیت کرسکتا ہے، مثلاً: ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے کل کا روزہ رکھنے کا ارادہ کیا، اسے میرے لیے آسان فرما اور میری طرف سے قبول فرما“ ۔
افطار کی مسنون دعائیں
افطار کے وقت دعا مانگنا سنت سے ثابت ہے۔ روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی ۔
افطار کی مشہور دعا جو احادیث سے ثابت ہے، وہ یہ ہے:
”اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ“
ترجمہ: ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا“ ۔
یہ دعا سنن ابی داؤد میں موجود ہے ۔ بعض روایات میں اس دعا میں ”وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ“ کا اضافہ بھی ملتا ہے، لیکن محدثین کے نزدیک یہ اضافہ حدیث کی کتابوں میں ثابت نہیں ۔ ملا علی قاری نے اس اضافہ کو بے اصل قرار دیا ہے ۔
افطار کے بعد کی ایک اور مسنون دعا یہ ہے:
”ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“
ترجمہ: ”پیاس چلی گئی، رگیں تر ہوگئیں، اور اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہوگیا“ ۔
یہ دعا بھی سنن ابی داؤد میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔
ایک اور دعا جو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
”اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي“
ترجمہ: ”اے اللہ! میں تجھ سے تیری اس رحمت کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو ہر چیز پر وسیع ہے کہ تو میری مغفرت فرما دے“ ۔
افطار کے وقت دعا کی اہمیت
حدیث میں ہے کہ تین لوگوں کی دعا رد نہیں ہوتی: روزہ دار کی دعا افطار تک، عادل حکمران کی دعا، اور مظلوم کی دعا ۔ امام نووی کے مطابق یہ حدیث اس بات کی ترغیب ہے کہ روزے کی حالت میں کثرت سے دعا کی جائے، شروع سے لے کر افطار تک ۔
عشرہ رحمت کی دعا
رمضان کے پہلے عشرے کی مخصوص دعا جو روایات میں منقول ہے:
”اللَّهُمَّ اجْعَلْ صِيَامِي فِيهِ صِيَامَ الصَّائِمِينَ وَقِيَامِي فِيهِ قِيَامَ الْقَائِمِينَ وَنَبِّهْنِي فِيهِ عَنْ نَوْمَةِ الْغَافِلِينَ وَهَبْ لِي جُرْمِي فِيهِ يَا إِلَهَ الْعَالَمِينَ وَاعْفُ عَنِّي يَا عَافِيًا عَنِ الْمُجْرِمِينَ“
ترجمہ: ”اے اللہ! اس مہینے میں میرے روزے کو روزہ رکھنے والوں کے روزے کی طرح بنا دے، اور میرے قیام کو قیام کرنے والوں کے قیام کی طرح، اور مجھے غافلوں کی نیند سے بیدار فرما، اور میرے گناہوں کو بخش دے، اے جہانوں کے رب! اور مجھے معاف فرما دے، اے مجرموں کو معاف کرنے والے!“ ۔
نیت کے بارے میں اہم فقہی نکات
- نیت کا وقت: فرض روزے کے لیے طلوع فجر سے پہلے نیت کرنا ضروری ہے ۔ نفلی روزے کے لیے طلوع فجر سے پہلے نیت کرنا ضروری نہیں، بلکہ جب بھی روزہ رکھنے کا پروگرام ہو، اسی وقت نیت کی جاسکتی ہے ۔
- نیت کی حقیقت: نیت دل کے ارادے کا نام ہے، زبان سے الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں ۔
- سحری اور نیت: سحری کھانا بذات خود نیت کے قائم مقام ہے ۔
- اجتماعی نیت: چاند نظر آنے کے بعد تمام روزوں کی اجتماعی نیت درست نہیں ہے، ہر روزے کے لیے الگ نیت کرنی چاہیے ۔
روزے کے فضائل
قرآن و احادیث میں روزے کے بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں:
- روزے رکھنے والے اور رکھنے والیوں کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔
- جنت میں ایک دروازہ ہے جس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے ۔
- ماہ رمضان کا روزہ سابقہ گناہوں کا کفارہ ہے ۔
- روزہ جہنم سے بچاؤ کے لیے مضبوط قلعہ ہے ۔
- روزہ قیامت کے دن روزہ دار کے لیے شفاعت کرے گا ۔
- روزہ دار کا سو جانا عبادت اور اس کی خاموشی تسبیح شمار ہوتی ہے ۔
- وقت افطار روزہ دار کی دعا رد نہیں کی جاتی ۔
سحری کی اہمیت
سحری کھانا سنت اور برکت کا باعث ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سحری کھایا کرو کیوں کہ سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے“ ۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے“ ۔ سحری کرنا مسلمانوں کی خصوصیت ہے اور یہ عبادت بھی ہے ۔
افطار میں جلدی کرنے کی فضیلت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے خیر پر رہیں گے“ ۔ افطار میں جلدی سے مراد وقت سے پہلے افطار کرنا نہیں، بلکہ وقت بوجانے پر جلدی کرنا مقصود ہے ۔
روزہ دار کو افطار کرانے کی فضیلت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی روزہ دار کو افطار کرائے، اسے بھی روزہ دار کی طرح اجر وثواب دیا جاتا ہے، اور روزہ دار کے اجر وثواب میں بھی کوئی کمی نہیں آتی“ ۔
نتیجہ
روزہ رکھنے کی نیت اور افطار کی دعا اسلامی عبادات کا اہم حصہ ہیں۔ نیت دل کے ارادے کا نام ہے اور اس کے لیے کوئی مخصوص الفاظ احادیث سے ثابت نہیں۔ افطار کے وقت کی دعائیں احادیث سے ثابت ہیں اور انہیں پڑھنا سنت ہے۔ روزہ دار کی دعا افطار کے وقت قبول ہوتی ہے، اس لیے اس موقع کو غنیمت جاننا چاہیے۔ رمضان المبارک میں کثرت سے دعا، تلاوت قرآن، اور نیک اعمال کرنے چاہییں تاکہ اللہ کی رحمت اور مغفرت حاصل ہو سکے۔
